What is a ‘surgical strike’? Surgical Strikes Meaning in Military Language

Written by

آؤ سرجیکل سٹرائیک سمجھیں !!

کل سے بھارتی و پاکستانی سرزمین پرجس بات کا سب سے زیادہ چرچہ ہے وہ ہے ” سرجیکل سٹرائیکس ” . جنہیں معلوم ہے وہ تو جانتے ہیں یہ ہوتی کیا ہیں پر بہت سے دوستوں کو اس بارے میں نہیں معلوم ، جب کہ انڈیا میں موجود میرے ” متر ” تو اس بات سے بلکل بھی واقف نہیں ہیں .
چلیں بحیثیت اسٹریٹجک اسٹڈیز کے طالب علم میں آپکو سمجھانے کی ادنی سی کوشش کرتا ہوں !

سرجیکل سٹرائیک کا مطلب ہوتا ہے مکمل جنگ کے بجائے کسی مخصوص ٹارگٹ کا حصول وہ بھی جنگی انداز میں !
یعنی جیسے آپکو بہت مضبوط انٹیلی جنس ٹپ ملے کہ آپکا مطلوبہ ٹارگٹ فلانی جگہ پر موجود ہے لہٰذا فوری آپ ایک پلان بناؤ پہلے سے تیار ٹیم کو مشن کے بارے میں گائیڈ کرو اور پھر وہ ٹیم برق رفتاری سے وہاں جاۓ اپنا ہدف حاصل کرے اور واپس آجاۓ .
اردو اور سہل زبان میں اس سے بہت ملتا جلتا ایک لفظ ہے جسے ” چھاپہ ” کہا جاتا ہے .
چھاپہ بھی ایک طرح کا سرجیکل حملہ ہی ہوتا ہے . یاد رہے یہ وہی چھاپہ ہے جو پولیس مخبر کی اطلاع پر مارتی ہے .

ارے ہندوستانی بھائی کیا کہا آپ نے ؟ آپکو مزید واضح طریقے سے سمجھاؤں ؟

آپ نے ایس ایس جی کی بلوچ رجمنٹ کا نام سنا ہے ؟

ہممم یقیناً نہیں سنا ہوگا پر آپکی آرمی بہت اچھے سے جانتی ہے !

دیکھیں جب اگست 2013 میں ایس ایس جی بلوچ رجمنٹ 450 میٹر ہندوستان کے اندر گھس کر ہندوستانی فوجیوں کے سر قلم کرتی ہے اور خراماں خراماں واپس آجاتی ہے تو یہ عمل ” سرجیکل سٹرائیک ” کھلاتا ہے

10 جنوری 2013 میں جب پونچھ سیکٹر آزاد کشمیر سے ملحقہ سرحد میں یہی بلوچ ریجمنٹ کے کمانڈوز ہندوستانی آرمی کے دو جوانوں کو جو کہ 13 راجپوتانہ رائفلز سے تعلق رکھتے تھے دو بدو لڑائی میں قتل کرتے ہیں اور پھر ایک کا سر کاٹ کر لے جاتے ہیں . تو یہ بھی سرجیکل سٹرائیک کہلاتی ہے .

تھوڑا اور پیچھے چلتے ہیں . اگست 2011 کپواڑہ سیکٹر . پاکستانی فوجی سرحد پار کرتے ہیں اور جا کر انڈین چوکی میں موجود دو سپاہیوں کو جہنم واصل کرتے ہیں اور ان کے سر تن سے جدا کر دیتے ہیں . تو یہ عمل بھی جنگیں اصطلاح میں ” سرجیکل سٹرائیک” ہی کہلاتا ہے .

حوالدار جےپال سنگھ آدھیکاری اور لانس نائیک دیوندر سنگھ کے سر کٹے لاشے تو ابھی کچھ وقت پہلے کی ہی ایک مشھور خبر ہے
میری جب مختلف فورمز پر انڈین کولیگز سے بات ہوتی تھی اور ہم مختلف امور پر بات کرتے تھے تو میں اس بات سے انکاری ہوا کرتا تھا کہ ایسا پاکستانی آرمی نے کچھ کیا ہوگا . پر ان کا کہنا تھا یہ آپکی ایس ایس جی اپنی بہادری جتلانے کے لئے ایسا کرتی ہے کہ دیکھو ہم دور سے گولی مار کر نہیں بھاگتے ( جیسا گزشتہ روز بھارت نے کیا ) بلکہ ہم سر کاٹتے ہیں تا کہ یاد رہے ہم نے ” گھس کر مارا تھا” …

جی جناب تو یہ ساری مثالیں جو میں نے بتائی ہیں انہیں جنگی زبان میں ” سرجیکل سٹرائیکس ” کہا جاتا ہے .

ارے .. سنو ناراض نہ ہو یار یہ میں نہیں کہ رہا ، ہم تو امن پسند لوگ ہیں بھائی ہم کبھی دعوی نہیں کرتے کہ ہم نے کتنی بار آپکو ” آپکے اندر گھس کر” مارا ہے .

یہ ساری باتیں آپکی حکومتیں اور میڈیا کرتا آیا ہے کہ پاکستانی فوجی سرحد کے اندر گھس کر ہمیں مارتے ہیں ، جب کہ یہ بھی ریکارڈ کا حصّہ ہے کہ آپکے بارڈر میں موجود آرمی افسران فلیگ میٹنگز میں باقاعدہ درخواست بھی کر چکے ہیں کہ ایس ایس جی کو ہمارے فوجیوں کے سر قلم کرنے سے روکا جاۓ ، کیوں کہ آپکا خیال تھا کہ وزیرستان میں طالبان نے جو پاکستانی فوجیوں کے ساتھ آپکے ایماء اور مدد پر کیا اس کا بدلہ پاکستانی فوجی پاکستانی طالبان کے ساتھ ساتھ بھارت کے فوجیوں سے بھی لیتے ہیں ، جب کہ آپکے چوکی پر موجود بہادر سور ماؤں کا ماننا تھا کہ یہ ایس ایس جی والے پاگل ہیں جو شرطیں لگا کر کھیل کھیل میں ” سرجیکل سٹرائیک ” کر جاتے ہیں …!!!

یہ جو خبریں میں نے دی ہیں انہیں گوگل کی مدد سے سرچ کریں ویسے بھی گوگل کا سی ای او تو آپ ہی کا شہری ہے ، آپکو اس طرح کے پاکستانی حملوں کی بہت سی خبریں ملیں گی ، اور یہ خبریں آپکو پاکستانی میڈیا یا آرمی سے نہیں بلکہ انڈین میڈیا اور آرمی سے ہی ملیں گی ، وہ کہتے ہیں نا ” سرجیکل ” وہ جس کا دشمن خود اقرار کرے کہ ہاں بھائی واقعی کسی نے اندر گھس کر مارا ہے? آپ وہ سب خبریں اور واقعیات پڑھیں اور پھر پرسوں کا بھارتی سرحدی فائرنگ والا حملہ دیکھیں ، اور پھر بھارتیوں کا اسے سرجیکل سٹرائیک کہنے کا دعوی سنیں …. سچ سچ بتائیں آپکو شرم آرہی ہے نا؟؟؟ ?

بہرحال بطور “امن پسند” پاکستانی تو میں یہی کہوں گا کہ جی یہ ہم پر الزامات ہیں ، ہم اسے سختی سے رد کرتے ہیں ، ہوسکتا ہے کسی ڈپریشن میں آ کر ہندوستانی فوجیوں نے یکے بعد دیگرے خود ہی اپنے سر قلم کردئے ہوں ?

 

Article Tags:
· · · · · · ·
Article Categories:
Articles · News · Top Rated

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *